Font by Mehr Nastaliq Web

لکھنؤ کے شاعر اور ادیب

کل: 91

اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر

اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، جن کا تعلق سندیلہ، ہردوئی سے تھا، انہوں نے 1905ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں میر منصب علی سندیلوی اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" اور "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" کی صورت میں شائع ہوا جو ان کے پختہ شعری ذوق اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، قواعد داں اور لغت نگار تھے، ابتدا میں لکھنؤ اور بعد ازاں ریاستِ رام پور سے وابستہ رہے، جہاں ان کی علمی و ادبی خدمات کو خاص پذیرائی ملی، شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان، عروض اور قواعد پر بھی اہم کام کیا اور متعدد دیوان، لغات اور علمی رسائل تصنیف کیے۔

بولیے