Font by Mehr Nastaliq Web

سیتا پور کے شاعر اور ادیب

کل: 12

سیتاپور کے ممتاز کائستھ خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاعر و ادبی منتظم تھے، جنہیں غزل کے ساتھ نعت اور سلام گوئی سے خصوصی شغف تھا اور جن کا مجموعۂ سلام ’’اشکِ خلوص‘‘ شائع ہوا۔

حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری

اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔

اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔

کائستھ خاندان کے شاعر و ماہرِ فارسی تھے، بہرائچ کے صدر مدرس رہے، ’’یوسف زلیخا‘‘ کے مصنف اور نعت گو شاعر تھے، جن کے کلام میں مذہبی عقیدت نمایاں ہے۔

سیتاپور کے کائستھ شاعر تھے، جگر بسوانی کے شاگرد اور شباب کاکوروی سے اصلاح یافتہ، جن کا متنوع شعری سرمایہ نعت، غزل، رباعی، قطعہ اور نظم پر مشتمل تھا۔

عشقِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے اپنے کلام میں عقیدتِ نبوی کو دل آویز انداز میں پیش کیا۔

بولیے