Sufinama
Kabeer's Photo'

کبیر

1440 - 1518 | اتر پردیش, بھارت

باعتبار

سنگتی بھئی تو کیا بھیا ہردا بھیا کٹھور

نو نیجا پانی چڑھئے تؤ نہ بھیجئے کور

کبیر سنگت سادھ کی ہرے اور کی بیادھی

سنگت بری اسادھ کی آٹھو پہر اپادھی

سکھیا سب سنسار ہے کھاوئے او سووے

دکھیا داس کبیرؔ ہے جاگئے او روئے

گرو سمرتھ سر پر کھڑے کہا کمی توہی داس

ردھدی سدھدی سیوا کریں مکتی نہ چھاڑے پاس

کبیر گرو سب کو چہیں گرو کو چہیں نہ کوے

جب لگ آس سریر کی تب لگ داس نہ ہوے

یہی پریم نرباہیے رہنی کنارے بیٹھی

ساگر تیں نیارا رہا گیا لہری میں پیٹھی

ایک سیس کا مانوا کرتا بہُتک ہیس

لنکاپتی راون گیا بیس بھجا دس سیس

دیکھت دیکھت دن گیا نس بھی دیکھت جائے

برہن پیہ پاوئے نہیں بیکل جئے گھبرائے

کبیرؔ خالق جاگیا اور نہ جاگئے کوئے

کئے جاگئے بشیا بھرا کئے داس بندگی جوے

جوگی جنگم سیوڑا سنیاسی درویش

بنا پریم پہنچئے نہیں درلبھ ستگرو دیس

چوڑی پٹکوں پلنگ سے چولی لاؤں آگی

جا کارن یہ تن دھرا نا سوتی گل لاگی

پتبرتا ببھیچارنی ایک مندر میں باس

وہ رنگ راتی پیو کے یہ گھر گھر پھرئے اداس

پییا جاہے پریم رس راکھا چاہئے مان

ایک میان میں دو کھڑگ دیکھا سنا نہ کان

سیوک سیوا میں رہئے سیوک کہیئے سوے

کہے کبیرؔ سیوا بنا سیوک کبھہوں نہ ہوئے

کیڑے کاٹھ جو کھائیا کھات کنہوں نہی دیٹھ

چھال اپاری جو دیکھیا بھیتر جمیا چیٹھ

ادھک سنیہی ماچھری دوجا الپ سنہے

جبہیں جل تیں بیچھرے تبہی تیاگے دینہ

انکھین تو جھانئیں پری پنتھ نہار نہار

جبھیا تو چھالا پرا نام پکار پکار

کبیر چنگی برہ کی مو تن پڑی اڑائے

تن جری دھرتی ہو جری عنبر جریا جائے

من دیا کہں اورہی تن سادھُن کے سنگ

کہئے کبیرؔ کوری گجی کیسے لاگے رنگ

مریے تو مری جائیے چھٹی پرئے جنجار

ایسا مرنا کو مرے دن میں سو سو بار

برہ جلنتی دیکھی کر سائیں آئے دھائے

پریم بوند سے چھرکی کے جلتی لئی بجھائے

پریم پانوری پہری کئے دھیرج کاجر دیئ

سیل سندور بھرائی کئے یوں پیا کا سکھ لئی

پرینم چھپایا نا چھپے جا گھٹ پرگھٹ ہوئے

جو پے مکھ بولئے نہیں تو نین دیت ہیں رویے

سب آئے اس ایک میں ڈار پات پھل پھول

اب کہو پاچھے کیا رہا گہی پکڑا جب مول

کبیرؔ کھائی کوٹ کی پانی پیوئے نہ کوے

جائ ملے جب گنگ سے سب گنگودک ہوئے

آیا پریم کہاں گیا دیکھا تھا سب کوئے

چھن روئے چھن میں ہنسے سو تو پریم نہ ہوئے

کایتھ کاگد کاڑھیا لیکھا وار نہ پار

جب لگی سواس سریر میں تب لگی نام سنبھار

پریم بھاؤ اک چاہئیے بھیش انیک بناے

بھاوے گرہ میں باس کر بھاوے بن میں جائے

برہا برہا مت کہوں برہا ہے سلطان

جا گھٹ برہ نہ سنچرے سو گھٹ جان مسان

صُرت سمانی نام میں نام کیا پرکاس

پتبرتا پتی کو ملی پلک نا چھاڈئے پاس

مالی آوت دیکھی کے کلیاں کریں پکاری

پھولی پھولی چنی لیے کالہی ہماری باری

سب کچھو گرو کے پاس ہے پئیے اپنے بھاگ

سیوک من سے پیار ہے نسو دن چرنن لاگ

اتم پریت سو جانئے ستگرو سے جو ہوئے

گنونتا او دربیہ کی پریتی کرے سب کوئے

نینوں کی کری کوٹھری پتلی پلنگ بچائے

پلکوں کی چک ڈاری کئے پیا کو لیا رجھائے

ایکم ایکا ہون دے بنسن دے کیلاس

دھرتی عنبر جان دے مو میں میرے داس

پریتی اڑی ہے تجھ سے بہو بہو کنت

جو ہنس بولوں اور سے نیل رنگاؤں دنت

ہنس ہنس کنت نہ پائیا جن پایہ تن رویے

ہانسی کھیلے پیہ ملیں تو کون دہاگنی ہوئے

گاگر اوپر گاگری چولے اوپر دوار

سُلی اوپر سانتھرا جہاں بلابئے یار

انک بھری بھری بھینٹیے من نہیں باندھے دھیر

کہہ کبیرؔ تے کیا ملے جب لگی دوئے سریر

کبیرؔ چندن کے نکٹ نیم بھی چندن ہوئے

بوڑے بانس بڑائیا یوں جانی بوڑو کوے

کبیرؔ ناؤ ہے جھانجھری کورا کھیونہار

ہلکے ہلکے تِر گیے بوڑے جن سر بھار

برہ جلنتی میں پھروں مو برہنی کو دکھ

چھانہ نہ بیٹھوں ڈرپتی مت جلی اٹھے روکھ

نام نہ رٹا تو کیا ہوا جو انتر ہے ہیت

پتبرتا پتی کو بھجئے مکھ سے نام نہ لیت

کاجر کیری کوٹھری کاجر ہی کا کوٹ

بلیہاری وا داس کی رہئے نام کی اوٹ

جہاں پریم تہں نیم نہی تہاں نہ بدھی بیوہار

پریم مگن جب من بھیا تب کون گنئے تتھی بار

سر نر تھاکے منی جنا تھاکے بسنو مہیس

تہاں کبیراؔ چڑھی گیا ست گرو کے اپدیس

یہ تت وہ تت ایک ہے ایک پران دئ گات

اپنے جے سے جانئے میرے جئے کی بات

جا گھٹ میں سائیں بسیں سو کیوں چھانا ہوئے

جتن جتن کری دابیئے تو اُنجیارا سوئے

داس دکھی تو ہری دکھی آدی انت تہں کال

پلک ایک میں پرگٹ ہوے چھن میں کرئے نہال

سیوک کتا گرو کا موتیا وا کا ناؤں

ڈوری لاگی پریم کی جت کھینچے تت جاو