Font by Mehr Nastaliq Web

صوفی اورسنتوں کی فہرست

سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام

سلسلۂ شاذلیہ کے عظیم صوفی اور "الحکم العطائیہ" کے مصنف، شریعت و طریقت کے امتزاج کو منظم انداز میں پیش کرنا آپ کا نمایاں علمی کارنامہ ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم تھے، "اردو کی آخری کتاب"، "چاند نگر" اور "آوارہ گرد کی ڈائری" ان کی نمایاں تصانیف ہیں جبکہ "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" اور "کل چودھویں کی رات تھی" ان کی لازوال غزلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

سلطان عبداللہ قطب شاہ کے درباری شاعر اور ’’پھول بن‘‘ اور’’طوطی نامہ‘‘ کے مصنف

فارسی ادب کے ممتاز قطعہ گو شاعر تھے جن کی شاعری اخلاقی، عرفانی اور عشقیہ مضامین کی ترجمان ہے۔

آستانۂ قدیری، ہلکتہ کے سجادہ نشیں اور حضرت قدیراللہ کے صاحبزادے

اردو اور فارسی کا عظیم شاعر

ریاستِ ٹونک کے ممتاز صوفی شاعر تھے، "خورشیدِ روحی" ان کی معروف شعری یادگار ہے اور نعتیہ شاعری میں انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

بادشاہ بلخ جنہوں نے خدا کی خاطر سلطنت کو خیرباد کہہ دیا

تیسری صدی میں فارسی ادب کے ماہر اور معروف صوفی

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے نبیرہ، مفسرِ اعظمِ ہند کے خطاب سے مشہور

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

بہرائچ کے ممتاز شاعر، محقق اور کثیرالتصنیف ادیب تھے، نشور واحدی کے شاگرد تھے اور "کاروانِ فکر"، "آبروئے دو جہاں" اور "نامورانِ بہرائچ" جیسی اہم تصانیف ان کی علمی و ادبی خدمات کی نمائندہ ہیں۔

خانقاہ ابوالعلائیہ، حیدرآباد کے سابق سجادہ نشیں

کلکتہ کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، شاعر اور مصنف تھے، تصوف، اصلاحِ باطن اور دینی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’رشدِ رشیدی حقیقی‘‘، ’’سیف المعرفت‘‘، ’’حقیقتِ بیعت‘‘ اور ’’جوازِ تعزیہ‘‘ نمایاں ہیں۔

قلندرانہ مزاج اور نعتیہ شاعری کے منفرد آہنگ کے حامل شاعر۔

سلسلۂ چشتیہ سے وابستہ نعت گو شاعر تھے، "مولانا" تخلص کرتے اور خواجہ محمود تونسوی کے شاگرد تھے، ان کی معروف تصنیف ’’ذخیرۂ نعت‘‘ ہے۔

حضرت بڑے حافظ صاحب کے مرید اور اسیر لکھنوی کے شاگرد رشید

شاہ اکبر داناپوری کے شاگرد

خانقاہ امجدیہ، سیوان کے چشم و چراغ اور معروف تظمین نگار

آپ غزل، نعت اور منقبت کے ممتاز شاعر تھے، فلسفہ، نجوم، خطاطی اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

سوز نظامی اور شبنم غضنفر کے شاگرد

اہلِ بیت کے جلیل القدر امام تھے، آپ نے علم، تقویٰ اور دینی رہنمائی کے ذریعے اسلامی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ عباسی خلیفہ مأمون نے آپ کو ولی عہد مقرر کیا مگر بعد میں طوس میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

دبستان لکھنؤ کے ممتاز شاعر

اسلامی دنیا کے عظیم فقیہ، صوفی اور مفکر تھے، "احیا علوم الدین" ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔

حضرت رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہرا کے بڑے صاحبزادے تھے، 3 ہجری میں پیدا ہوئے اور 49 ہجری میں وصال فرمایا۔

حضرت محمد رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت فاطمہ زہرا کے فرزند تھے، 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں حق، انصاف اور حریت کی خاطر شہید ہوئے۔

امام محمد باقر کے فرزند اور اہلِ بیت کے عظیم عالم تھے، 80 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، حدیث و فقہ کے ممتاز استاد رہے اور 148 ہجری میں وصال فرمایا، آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔

اہلِ بیتِ اطہار کے پانچویں امام، امام زین العابدین کے فرزند اور امام حسین کے پوتے تھے، آپ 57 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، لقب باقرالعلوم تھا اور حدیث، فقہ و تفسیر کے ممتاز عالم تھے، آپ کا وصال 114 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

اہلِ بیتِ اطہار کے ساتویں امام، امام جعفر صادق کے فرزند اور امام محمد باقر کے پوتے تھے، آپ 128 ہجری میں مقامِ ابواء میں پیدا ہوئے، علم، عبادت، حلم اور تقویٰ کے باعث ممتاز مقام رکھتے تھے اور کاظم کے لقب سے مشہور ہوئے، آپ کا وصال 183 ہجری میں بغداد میں ہوا، جبکہ آپ کا مزار کاظمین میں واقع ہے۔

آستانہ خواجہ معین الدین چشتی کے خدام اور مرزا غالب کے شاگرد رشید

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

خانقاہ صفویہ، صفی پور سے وابستہ

برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور 1910ء میں یورپ و امریکہ جا کر تصوف، محبت، رواداری اور اخوتِ انسانی کا پیغام عام کیا، آپ کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی روحانیت اور انسان دوستی کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

بولیے