اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی
اور اپنے گریبان میں جھانکا نہیں جاتا
اپنے ہاتھوں کے بھی میں زور کا دیوانہ ہوں
رات دن کشتی ہی رہتی ہے گریبان کے ساتھ
گلو گیر ہے ان بھوؤں کا تصور
گریبان میں اپنے کنٹھا نہیں ہے
اس پردے میں تو کتنے گریبان چاک ہیں
وہ بے حجاب ہوں تو خدا جانے کیا نہ ہو
اے ضبط دل یہ کیسی قیامت گزر گئی
دیوانگی میں چاک گریبان ہو گیا
گلوں کی طرح چاک کا اے بہار
مہیا ہر اک یاں گریبان ہے