دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ
اس کو سادہ کتاب ہونا تھا
وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی تاک پر جیوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی
چشم حقیقت آشنا دیکھے جو حسن کی کتاب
دفتر صد حدیث راز ہر ورق مجاز ہو
کیا کہے وہ کہ سب ہویدا ہے
شان تیری تری کتاب کے بیچ
نہ چھپ مجھ سے تو اے بت سنگ دل
تجھے اس کتاب اور قلم کی قسم
ہستی کی اس کتاب کے معنوں پے خوب غور کر
لاکھوں قرآن ہیں نہاں رند کی کائنات میں