Font by Mehr Nastaliq Web

مل گیا ان کا در بس اور کیا چاہیے

فنا بلند شہری

مل گیا ان کا در بس اور کیا چاہیے

فنا بلند شہری

MORE BYفنا بلند شہری

    مل گیا ان کا در بس اور کیا چاہیے

    مہ جبیں ناز پر بس اور کیا چاہیے

    محفل عشق میں ہر طرف نام ہے

    یار ہے جلوہ گر بس اور کیا چاہیے

    دور کرنے کو میری پریشانیاں

    آئے وہ میرے گھر بس اور کیا چاہیے

    با خبر تجھ سے ہے ان کی چشم کرم

    اے دل بے خبر بس اور کیا چاہیے

    یہ تمہارا کرم ہے رہ عشق میں

    تم بنے ہم سفر بس اور کیا چاہیے

    مل گئی ہے مجھے میرے دکھ کی دوا

    ساز ہے چارہ گر بس اور کیا چاہیے

    ان کی بیکس نوازی سے میری خطا

    ہو گئی در گزر بس اور کیا چاہیے

    ہر گھڑی ہر نفس شامل حال ہے

    ان کا فیض نظر بس اور کیا چاہیے

    آپ سے بندہ پرور کا جان کرم

    میں ہوں محتاج در بس اور کیا چاہیے

    بندگی کے لیے جھک گیا ہے فناؔ

    ان کے قدموں میں سر بس اور کیا چاہیے

    آ گئی سامنے جلوہ گاہ صنم

    تجھ کو شوق نظر بس اور کیا چاہیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Fana Bulandshahri

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے