خواجہ میر اثر کے اشعار
خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے
اثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہے
ان بتوں کے لئے خدا نہ کرے
دین و دل یوں کوئی بھی کھوتا ہے
جنت ہے اس بغیر جہنم سے بھی زبوں
دوزخ بہشت ہے گی اگر یار ساتھ ہے
دن انتظار کا تو کٹا جس طرح کٹا
لیکن کسو طرح نہ کٹی رات رہ گئی
کیا کروں آہ میں اثرؔ کا علاج
اس گھڑی اس کا جی ہی جاتا ہے
اثرؔ ان سلوکوں پہ کیا لطف ہے
پھر اس بے مروت کے گھر جائیے
نہیں ہے یہ قاتل تغافل کا وقت
خبر لے کہ باقی ابھی جان ہے
تو نگہ کی نہ کی خدا جانے
ہم تو ڈر سے کبھو نگاہ نہ کی
کہوں کیا خدا جانتا ہے صنم
محبت تری اپنا ایمان ہے
جان و دل سے بھی گزر جائیں
اگر ایسا ہی خفا کیجئے گا
کیا کہوں تجھ سے اب کے میں تجھ کو
کس طرح دیکھتا ہوں خواب کے بیچ
کدھر کی خوشی کہاں کی شادی
جب دل سے ہوس ہی سب اڑا دی
کون رہتا ہے تیرے غم کے سوا
اس دل خانماں خراب کے بیچ
گلوں کی طرح چاک کا اے بہار
مہیا ہر اک یاں گریبان ہے
تیرے مکھڑے کو یوں تکے ہے دل
چاند کے جوں رہے چکور لگا
مشکل ہے تا کہ ہستی ہے جاوے خودی کا شرک
تار نفس نہیں ہے یہ زنار ساتھ ہے
کیا کہے وہ کہ سب ہویدا ہے
شان تیری تری کتاب کے بیچ
ابھی تو لگ نہ چلنا تھا اثرؔ اس گل بدن کے ساتھ
کوئی دن دیکھنا تھا زخم دل بے طرح آلا تھا
نہ رہا انتظار بھی اے یاس
ہم امید وصال رکھتے تھے
دل و غم میں اور سینہ و داغ میں
رفاقت کا یاں عہد و پیمان ہے
نالے بلبل نے گو ہزار کیے
ایک بھی گل نے پر سنا ہی نہیں
روز و شب کس طرح بسر میں کروں
غم ترا اب تو جی ہی کھاتا ہے
دم بدم یوں جو بد گمانی ہے
کچھ تو عاشق کی تجھ کو چاہ پڑی
جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر
شبنم کی طرح مجھے رلا کر
کر کے دل کو شکار آنکھوں میں
گھر کرے ہے تو یار آنکھوں میں
ہوں تیر بلا کا میں نشانہ
شمشیر جفا کا میں سپر ہوں
یاں تغافل میں اپنا کام ہوا
تیرے نزدیک یہ جفا ہی نہیں
غم کو با غم بہم نہ کیجے
گر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجے
تم جور و جفا کرو جو چاہو
ان باتوں پہ کب مجھے نظر ہے
تیرے وعدوں کا اعتبار کسے
گو کہ ہو تاب انتظار کسے
گو زیست سے ہیں ہم آپ بیزار
اتنا پہ نہ جان سے خفا کر
اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی
سچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere